Total Pageviews

Abdulamin BarkaTi Qadri

Thursday, July 14, 2016

حق کی زبان

سیدی مرشدی کنزی فوزی لیومی و غدی مرد مومن مرد حق علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی الحسنی و الحسینی دامت برکاتہم القدسیہ ۔۔۔۔۔۔

از رشحات قلم : ابو المکرم ڈاکٹر سید محمد اشرف جیلانی دام ظلہ

حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی کی شخصیت میں بے شمار خصوصیات ہیں ، آپ پیر طریقت بھی ہیں اور رہنمائے شریعت بھی ، جید عالم دین بھی ہیں اور بے مثل مقرر بھی ، کتب کثیرہ کے مصنف بھی ہیں اور مولف بھی ، لیکن چند اوصاف ایسے ہیں جن کی وجہ سے آپ دیگر علماء میں ممتاز نظر آتے ہیں اور ان میں سے ایک ہے آپ کی جرات و بے باکی ، جس کا مشاہدہ راقم نے کئی مواقع پر کیا ہے ۔
یہ اس دور کی بات ہے جب حافظ محمد تقی شہید رحمۃ اللہ علیہ صوبائی وزیر مذہبی امور تھے اور اور وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی میر ترین تھے ، حافظ تقی شہید نے کراچی کے میریٹ ہوٹل میں حج کے سلسلے میں ایک میٹینگ کی جس میں علماء و مشائخ کو مدعو کیا اس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو دعوت دی گئی ۔ والد صاحب قبلہ کے نام دعوت نامہ آیا لیکن ان کی طبیعت ناساز تھی ، اس لئے انہوں نے فرمایا تم دونوں بھائی چلے جاؤ ، چنانچہ ان کے حکم سے راقم اور برادر اصغر صاحبزادہ حکیم سید اشرف جیلانی زید مجدہ میٹنگ میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئے ، جب ہم وہاں پہنچے تو دیوبندیوں کے عالم مولانا آصف قاسمی اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے ، ہم دونوں ایک طرف بیٹھ گئے ۔ کچھ دیر بعد شیعوں کے مجتہد مولانا نصیر الاجتہادی آئے اور اور وہ دوسری جانب بیٹھ گئے ، ان کے بعد مولانا اسعد تھانوی اور امجد تھانوی آئے پھر مولانا شاہدین اشرفی آئے ، اسی طرح علماء آتے رہے اور بیٹھتے رہے پھر حافظ تقی صاحب مرحوم حاجی میر ترین صاحب کے ساتھ آئے ، سب سے آخر میں حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی تشریف لائے ، آپ کو دیکھتے ہی تمام علماء کھڑے ہوگئے ، آپ نے بارعب انداز میں سب کو سلام کیا ۔ اسٹیج کے سامنے کرسیوں کی پہلی قطار میں پہلی کرسی پر آصف قاسمی بیٹھے ہوئے تھے جیسے ہی شاہ صاحب کی نظر ان پر پڑی ، آپ نے بلند آواز سے فرمایا ارے یہ وہابی یہاں بیٹھا ہوا ہے ، آصف قاسمی اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور شاہ صاحب سے ہاتھ ملایا ، شاہ صاحب نے فرمایا ، تم نے قاسم نانوتوی کو اعلی حضرت کیوں لکھا ، اعلی حضرت صرف مولانا احمد رضا خاں ہیں ۔ آپ نے علماء کے سامنے اس طرح بے باک انداز میں کہا کہ وہ گھبرا گیا اور پھیکی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ ہاں بہت علماء نے مجھ سے کہا کہ تم نے کیوں لکھا ، شاہ صاحب نے پھر فرمایا دیکھو آئندہ ایسی حرکت نہیں کرنا ۔ پھر سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ، شاکر قاسمی نے تلاوت کی ، ایک صاحب نے نعت پڑھی پھر اس اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی ۔ اجلاس حج سے متعلق تھا لیکن دوران گفتگو اسعد تھانوی نے تحریک پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابرین نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا ، یہ سنتے ہی فورا شاہ صاحب قبلہ نے بلند آواز سے فرمایا ، یہ غلط بیانی کررہے ہیں میں بتاؤں کہ ان کے اکابرین نے تحریک پاکستان میں کیا کردار ادا کیا ، مولانا مفتی محمود نے تو یہ کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں پاکستان بنانے گناہ میں شریک نہیں ہوا ۔ یہ سن کر اسعد تھانوی اور امجد تھانوی سخت غصے میں آگئے اور الٹی سیدھی بولنے لگے ، لیکن شاہ صاحب نے ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہایت جرات و بے باکی سے ان کے کارناموں کو بیان کردیا ، اس دوران حافظ تقی صاحب کبھی ان کو اور کبھی شاہ صاحب کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے رہے ، اس دوران راقم نے پہلی مرتبہ کسی سنی عالم دین کو وہابی علماء کے سامنے بے باکی کے ساتھ انکے کارناموں کو (جو پاکستان کے خلاف تھے ) بیان کرتے ہوئے دیکھا ، اپنے اسٹیج سے وہابیوں کے خلاف بولنا تو بہت آسان ہے لیکن وہابی علماء کے سامنے ان کے اکابرین کے خلاف بولنا یعنی حق بات کہنا یہ صرف مرد حق علامہ شاہ تراب الحق ہی کا کام ہے ۔

پیشکش
محمد تنویر رضا برکاتی
برکاتی مشن برہان پور شریف

دوسری ماں کہاں سے ملےگی

دوسری ماں کہاں سے ملے گی.......
از بیان: حضرت جی مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
ابن قیم رحمه الله نے ایک عجیب بات لکهی ہے....
فرماتے ہیں
میں گلی میں جارہا تها میں نے دیکها ایک دروازہ کهلا ماں اپنے بچے کو مار رہی ہے تهپڑ لگا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ تو نے مجهے بڑا ذلیل کیا.بڑا پریشان کیا.نافرمان ہے.کوئی بات نہیں مانتا.نکل جا میرے گهر سے.وہ بچہ رو رہا تها.دهکے کها رہا تها.جب گهر سے باہر نکلا.ماں نے کنڈی لگا دی.
فرماتے ہیں میں کهڑا ہوگیا کہ ذرا منظر تو دیکهوں.بچہ روتے روتے ایک طرف کو چل پڑا ذرا آگے گیا رک کر پهر واپس آگیا.
میں نےپوچها بچے تم واپس کیوں آگئے. کہنے لگا.سوچا کہیں اور چلا جاوں.پهر خیال آیا کہ مجهے دنیا کی ہر چیز مل سکتی ہے.مجهے ماں کی محبت نہیں مل سکتی.میں اسی لیے واپس آگیا ہوں.محبت ملے گی اسی در سے ملے گی.
کہتے ہیں بچہ بات کرکے وہیں بیٹھ گیا.میں بهی وہیں بیٹها. بچے کو نیند آئی.اس نے دہلیز پر سر رکها سو گیا.کافی دیر گزری ماں نے کسی وجہ سے دروزہ کهولا.ضرورت کے لیے باہر جانا چاہتی تهی.بیٹے کو دیکھا دہلیز پر سر رکهے سو رہا ہے.اٹهایا.......کیوں دہلیز پر سر رکهے سو رہے ہو؟؟
امی مجهے دنیا میں دوسری ماں نہیں مل سکتی. میں اس دہلیز کو چهوڑ کر کیسے جاوں..
فرمایا بچے کی بات سے ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے. بچے کو سینے سے لگا لیا......میرے بیٹے جب تیرا یقین ہے کہ اس گهر کے سوا تیرا گهر کوئی نہیں
میرے در کهلے ہیں آجا میں نے تیری غلطیوں کو معاف کردیا.
فرماتے ہیں........
جب گناہگار بندہ اپنے رب کے دروازے پر اس طرح آتا ہے
رب کریم میری خطاوں کو معاف کردے.
میرے گناہوں کو معاف کردے.
اے بے کسوں کے دستگیر.
اے ٹوٹے دلوں کوتسلی دینے والے.
اے پریشانیوں میں سکون بخشنے والی ذات.
اے بے سہارا لوگوں کا سہارا بننے والی ذات.
اے گناہوں کو اپنی رحمت کے پردوں میں چهپا لینے والی ذات.
تو مجه پر رحم فرما دے.
مجهے در در دهکے کهانے سے بچا لے.
اللہ اپنی ناراضگی سے بچا لے.
پروردگار آئندہ نیکوکاری کی زندگی عطافرما.
جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو پیش کر دیتا ہے. اللہ تعالی اس بندے کی توبہ کو قبول کر لیتے ہیں.
اللہ تعالي ہمیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یارب

فقیر اور شوہر

فقیر اور شوہر:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا ،دسترخوان ﷲ کی نعمتوں سے بھرا ہوا تھا، اتنے میں ایک فقیر نے یہ صدا لگائی
" ﷲ کے نام پر کچھ کھانے کے لیے دے دو"
اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا " سارا دستر خوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو"
عورت نے حکم کی تعمیل کی اور جب اس نے اس فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مارکر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔اس کے شوہر نے اس سے پوچھا " آپ کو ہوا کیا ہے ؟"
اس نے بتلایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر پر دستک دے رہا تھا وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا
چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں دسترخوان پر ایسے ہی بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے جیسا کہ آج کھارہے تھے اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی
" میں دو دن سے بھوکا ہوں،ﷲ کے نام پر کھانا دے دو"
یہ شخص دسترخوان سے اٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لہولہان کردیا
نہ جانے اس فقیر نے کیا بد دعا دی کہ اس کے حالات دگرگوں ہوگئے کاروبار ٹھپ ہوگیا اور وہ شخص فقیر وقلاش ہوگیا اس نے مجھے بھی طلاق دے دی
اس کے چند سال گذرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی
شوہر بیوی کی یہ باتیں سن کر کہنے لگا "بیگم کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات نہ بتلاوں؟ "
اس نے کہا ضرور بتائیں: شوہر کہنے لگا "جس فقیر کی آپ کے سابق شوہر نے پٹائی کی تھی وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ میں ہی تھا"
گردش زمانہ کا ایک عجیب نظارہ یہ تھا کہ ﷲ تعالیٰ نے اس بدمست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی ، حتیّٰ کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دیا
جو فقیر بن کر اس کے گھر پر آیا تھا اور چند سال بعد پھر ﷲ تعالیٰ اس شخص کو فقیر بنا کر اسی کے در پر لے آیا
وﷲ علی کل شی ءقدیر
(یہ واقعہ ابن الجوزی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے

شور مچانے سے

اب فقط شور مچانے سے نہیں کچھ ہوگا
صرف ہوٹوں کو ہلانے سے نہیں کچھ ہوگا

زندگی کے لیئے بے موت ہی مرتے کیوں ہو
اہل ایماں ہو تو شیطان سے ڈرتے کیوں ہو

تم محفوظ کہاں اپنے ٹھکانے پہ ہو
بعد اخلاق تم ہی لوگ نشانے پہ ہو

سارے غم سارے گِلے شکوے بھلا کے اٹھو
دشمنی جو بھی ہے آپس میں بھلا کے اٹھو

اب اگر ایک نہ ہو پائے تو مٹ جاؤگے
خشک پتوں کی طرح تم بکھر جاؤگے

خود کو پہچانو کہ تم لوگ وفا والے ہو
مصطفےٰ والے ہو مومن ہو خدا والے ہو

کفر دم توڑ دے ٹوٹی ہوئ شمشیر کےساتھ
تم اگر نکل آؤ  نارائے تکبیر کے سا تھ

اپنے اسلام کی تاریخ الٹ کر دیکھو
اپنا گزرا ہوا ہر دور پلٹ کر دیکھو

تم تو پہاڑوں کا جگر چاک کیا کرتے تھے
تم تو دریاؤں کا رخ موڑ دیا کرتے تھے

تم نے خیبر کو اُکھاڑا تھا تمھیں یاد نہیں
تم نے باطل کو پچھاڑا تھا تمھیں یاد نہیں

  پھرتے رہتے تھے شب و روز بیابانوں میں
زندگی کاٹ دیا کرتے تھے میدانوں میں

رہ کے محلوں میں ہر آیتِ حق بھول گئے
عیش عشرت میں پیمبر کا سبق بھول گئے

امنِ عالم کے امیں ظلم کی بدلی چھائ
خواب سے جاگو یہ دادری سے آواز آئ

ٹھنڈے کمرے حسین محلوں سے نکل کرآؤ
پھر سے تپتے ہوئے صحراؤں میں چل کر آؤ

لے کے اسلام کے لشکر کی ہر خوبی اٹھو
اپنے سینے میں لیئے جذبہ رومی اٹھو

راہِ حق میں بڑھو سامان سفر کا باندھو
تاج ٹھوکر پہ رکھو سر پہ امامہ باندھو

تم جو چاہو تو زمانے کو ہلا سکتے ہو
فتح کی ایک نئ تاریخ بنا سکتے ہو

خود کو پہچانو تو سب کچھ سنورسکتاہے
دشمنِ دین کا شیرازہ بکھر  سکتا ہے

حق پرستوں کے فسانوں میں مات نہیں۔
تم سے ٹکرائے زمانے کی یہ اوقات نہیں

________________________________

شیئر کیجیئے۔

پیٹرول میں کمی کیسے

ہوشیار خبردار الرٹ

قدرت روزنامہ11جولائی-2016)اکثر لوگ جب اپنی کار میں پٹرول ڈلوانے کےلیے پیٹرول پمپ پر جاتے ہیں توعموما" مقدار کی بجائے قیمتاً پیٹرول کا آرڈر دیتے ہیں. مثلاً 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ وغیرہ. آپ کا آرڈر لے کر filler-boy آپ کو اپنی شفّافیت دِکھانے کےلیے گاڑی پر ہلکی سی تھپکی لگا کر یا میٹر کی طرف اشارہ کرکے پیٹرول ڈالنا شروع کرتا ہے اور آپ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ آپ کو پورا پیٹرول ملے گا.جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے…
دراصل پیٹرول پمپ مالکان نے ماپ تول میں کمی کا ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے. چونکہ لوگ اکثر قیمتاً آرڈر دیتے ہیں اور اکثر پیمانہ چیک کرنے والے متعلقہ محکمے کے اہلکاران بھی چیکنگ کے دوران ایک لیٹر کا پیمانہ بھر کے دیکھتے ہیں کہ مقدار پوری ہے یا نہیں لہذا پمپ مالکان نے اپنے میٹر 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ پر سیٹ کیے ہوئے ہیں. مثال کے طور پر اگر 500 روپے میں 7 یا ساڑھے 7 لیٹر پٹرول آتا ہے تو یہ لوگ اُسے 5 یا 6 لیٹر پر set کر کے آپ کو چونا لگا دیں گے. میٹر پر اُتنی ہی قیمت اور مقدار نظر آئے گی لیکن درپردہ ماپ تول میں کمی کی گئی ہوگی. اسی طرح 1000، 1500، 2000 روپے کی الگ الگ setting کی ہوتی ہے.
یہ حقیقت تجربہ کر نے سے درست پائی گئی ہے. غیر مُصدّقہ اطلاع کے مطابق لاہور شہر میں ماسوائے ایک یا دو پیٹرول پمپس کے تقریباً تمام اِسی طرح کی ہیرا پھیری کر رہے ہیں.
آپکے لیے مشورہ ہے کہ جب بھی پیٹرول ڈلوائیں تو قیمت کی بجائے مقدار کے لحاظ سے پیٹرول ڈلوائیں اور وہ بھی commom number میں نہیں. یعنی 5، 10، 15، 20 لیٹر میں نہیں بلکہ 7، 9، 13، 17، 23 وغیرہ وغیرہ جیسے un-common نمبر کا استعمال کریں. اس طرح آپ نقصان سے بچ جائیں گے......!!!!!
💌💌💌💌💌💌💌💌💌
🖊صوت القلم
📧عبدالامین برکاتی قادری
🇮🇳ویراول گجرات ہند

Friday, June 24, 2016

بدگمانی سے بچو...!

دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہ دیتا.. میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں.. میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے.. شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے.. یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا.. پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا..

مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا !!!

-------------------------------------------------

میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا.. وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا.. میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے.. رزق کی بےحرمتی کرتا ہے اسے ضائع کردیتا ہے.. اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے.. یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا.. "بھائی ! یہ دیکھو ! یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں.. الله انہیں کیسے رزق دیتا ہے.."

میں ٹھٹھک کر رک گیا.. میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا وہ تو الله کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا.. ندامت سے میرا سر جھک گیا !!!

--------------------------------------------------

یہاں انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں.. جیسے جمشید بدل کر "جم" بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر "ٹم" رہ جاتا ہے وغیرہ.. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو "مو" کہہ کر بلا رہے ہیں.. مجھے شدید تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کر ڈالا.. صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے..؟ اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں.. واپس گھر آگیا..

کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے.. اس بار نہیں رہا گیا.. میں نے کہا.. "محمد ! تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر "مو" کر دیا.. ایسا نہ کرو.."

میری بات سن کر اس نے جواب دیا.. "عظیم بھائی ! میں نے ایسا جان کر کیا ہے.. جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں.. میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں.. لہٰذا میں نے اپنا نام "مو" لکھوا دیا تاکہ یہ "مو" کو گالی دیں.. "محمد" کو نہیں.."

یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں.. میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا.. وہ حرکت جس کا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی !!!

----------------------------------------------------

میں اب جان گیا ہوں.. میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے' میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا.. میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ.. .. ..

''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو.. کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں.. اور ٹوہ میں نہ لگو.."  (سورہ الحجرات ١٢)

وقت کی قدر و قیمت

💯👇🏽💯👇🏽💯👇🏽💯👇🏽💯

وقت کی قدرو قیمت
جاننے والے ۰۰۰ ⭐

1۔عامر بن قیس ایک زاہد تابعی تھے ۔ ایک شخص نے ان سے کہا "آو بیٹھ کر باتیں کریں" انہوں نے جواب دیا کہ پھر سورج کا بھی ٹھہرالو۔

2۔تاریخ بغداد کے مصنف خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ جاحظ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے کر ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے

3۔ فتح بن خاقان خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیر تھے ۔ وہ اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب انہیں سرکاری کاموں سے فرصت ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے میں لگ جاتے

4۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کے گھر جب بھی کوئی جاتا تو انہیں پڑھنے میں مصروف پاتا۔

5۔ابن رشد اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مطالعہ نہیں کرسکے

6-امام ابن جریر طبری ہر روز چودہ صفحات لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ہر لمحہ فائدے اور استفادے کے ساتھ گذارا

6۔البیرونی کے شوق علم کا یہ عالم تھا کہ حالت مرض میں مرنے سے چند منٹ پیشتر وہ ایک فقیہ سے جو
ان کی مزاج پرسی کے لیے آیا تھا ، علم الفرائض کا ایک مسلہ پوچھ رہے تھے۔

7-امام الحرمین ابوالمعالی عبد الملک جو مشہور متکلم امام غزالی کے استاد تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ میں سونے اور کھانے کا عادی نہیں۔ مجھے دن اور رات میں جب نیند آتی ہے سو جاتا ہوں اور جب بھوک لگتی ہے کھا لیتا ہوں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، پڑھنا اور پڑھانا تھا۔

8۔ علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار ہے ، وہ اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی قلم کے تراشے سنبھال کر رکھ دیتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے گرم کردہ پانی سے انہیں غسل دیا گیا۔ وہ اپنے روزنامچے "الخاطر" میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں جو کھیل تماشے میں لگے رہتے ہیں، ادھر ادھر بلامقصد گھومتے رہتے ہیں، بازاروں میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو گھورتے ہیں اور قیمتوں کے اتار چڑھاو پر رائے زنی کرتے رہتے ہیں۔

9-امام فخر الدین رازی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو سے کم نہ ہوگی۔ صرف تفسیر کبیر تیس جلدوں میں ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے میں ہمیشہ اس پر افسوس کرتا ہوں۔

10۔علامہ شہاب الدین محمود آلوسی مفسر قرآن نے اپنی رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ پہلے حصہ میں آرام و استراحت کرتے ، دوسرے میں اللہ تعالی کو یاد کرتے اور تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔

💯👆🏽💯👆🏽💯👆🏽💯👆🏽💯

سنی اور شیطان

جب بھی نماز کا وقت ہوتا تو ابلیس اپنے بچوں کو کہتا کہ جاؤ سنیوں کو
نماز سے روکو۔
ایک دن اس کے بیٹے نے پوچھ لیا کہ آپ صرف سُنی کو روکنے کا کیوں
کہتے ہو؟؟
۔وہابی دیوبندی بھی تو نماز پڑھتے ہیں ان کو کیوں نہیں روکا جاتا
ابلیس نے کہا وہ اس لیے کہ سُنی لوگ نبی پاکﷺ کی تعظیم کرتےہیں
جبکہ وہابی لوگ صرف عبادت کرتے ہیں تعظیم کو شرک سمجھتے ہیں
ابلیس کے بیٹے نے دوبارہ سوال کیاکہ کیا عبادت کے لیے تعظیمِ نبی ضروری ہے؟
ابلیس بولا ہاں بیٹا میں نے لاکھوں سال عبادت کی لیکن اللہ کے نبی حضرت آدم علیہ اسلام کی
تعظیم نہ کرنے کی وجہ سے توبہ کا دروازہ مجھ پر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا
جن فرشتوں نے اللہ کے حکم سے سجدہ تعظیمی  کیا ان پر آج بھی اللہ کی رحمت برستی ہے

نبی پاکﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے عبادت کے ساتھ تعظیم کی ان کو صحابی کا رتبہ ملا اور جن لوگوں
نے صرف عبادت کی اور تعظیم سے انکار کیا وہ منافق بنے
نبی پاکﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد جس نے عبادت کے ساتھ ساتھ تعظیم نبی کی وہ اللہ کا ولی بنا
اور جس نے صرف عبادت کی اور تعظیم سے انکار کر دیا وہ خوارج بنا
یہی وجہ ہے کہ میں وہابی کو عبادت کرنےسے نہیں روکتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی عبادات بھی
تعظیمِ نبی کے بغیر بے کارہیں
اصل خطرہ تو مجھے عاشقانِ رسولﷺ سے ہے
اگر انہوں نے عبادت شروع کر دی تو لازم اللہ پاک انہیں کوئی مقام و مرتبہ عطا فرمائے گا
یہ سن کے ابلیس کا بیٹا نکل گیا دوبارہ سنیوں کو ورغلانے

دعوت فکر للعوام و علما

... .. ...... ... ..دعوت فکر. .....
1-ہر ترقی یافتہ قوم اپنے مذھبی پیشواؤں کی عزت وتوقیر کا بھرپور خیال رکھتی ھے لیکن ھماری قوم کو کیا ھوگیا ھے؟ کہ اس نے اپنے مذھبی رھنماوں کو چندے کی رسید تھماکر شھر شھر قریہ قریہ گھماکر اور دروازے دروازے پھراکر گویا انھیں قدم قدم ذلیل کرنے کی مھم چھیڑ رکھی ھے، اور شکوہ کناں بھی ھے کہ ھمیں ترقی سے حصہ کیوں نھیں مل رھا هے؟؟ ! قسم بخدا ترقی کرنا ھے تو اپنے مذھبی پیشواوں کو عزت دو، ان کے ھاتھوں سے رسید چھینو، اور مدرسے کا پیٹ بھرنے کے لئیے کوئی اور سبیل پیدا کرو، ان وارثین منبرو محراب کو بھینٹ نہ چڑھاؤ ،  ورنہ قوم کی تعمیر و ترقی کا ھر خواب ھمیشہ نا آشنائے تعبیر رھےگا.
2-جس دور میں درس نظامی کا نصاب تشکیل دیا گیا اس دور کے علماء سے چندے نھیں کرایا گیا بلکہ بیت المال اور اوقاف اسلامی سے ان کی ضروریات پوری کی گئیں، ان کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا گیا اور ان کی قدرو منزلت میں کوئی کمی روا نہ رکھی گئی بلکہ گاھے گاھے سیم وزر سے تول کر ان کی عزت وتوقیر طشت از بام بھی کی گئی.لیکن اس زوال آمادہ دور میں درس نظامی کا جامع نصاب پڑھانے والے اساتذہ کی درگت کس قدر قابل افسوس ولائق صد رحم ھے!
  میرے بھائیو اور ذمہ داران قوم وملت!
3- دنیا جھان کے کسی بھی فرم، کمپنی اور ادارے کا یہ دستور نھیں کہ وہ اپنے ملازمین سے کام بھی کروائے اور ان کی تنخواہ کی فراھمی بھی انھیں سے کرائے لیکن اگر یہ اندھا قانون اور ظالمانہ دستور پوری شدومد کے ساتھ مدارس اسلامیہ میں رائج ونافذ ھے کہ یہاں بےچارے مدرسین سال بھر تک ملازمت کرتے ھیں اور پھر اپنی تنخواہ کی حصولی کے لئے انھیں وصولی بھی کرنا پڑتی ھے. فیا اسفی علی قومی! !!
4-آج تک مجھے یہ بات سمجھ نھیں آئی کہ آخر یہ نظمائے مدارس اور اراکین ادارہ کیا بلا ھیں اور کس درد کی دوا؟. ان کے خلاف پرجوش منظم اور ہمہ گیر تحریک چلانا وقت کی ناگزیر ضرورت ھے ورنہ مذھبی رھنماوں کے ساتھ اس ننگے کھیل کی شب دیجور کبھی آشنائے سپیدہ سحر نہ ھوگی.

از: مولانا افروز قادری چریا کوٹی
ترتيب و پیشکش: محمد عباس مصباحی گورکھپوری

Wednesday, June 22, 2016

کلکی اوتار اور اسلام

💠"کالکی اوتار" اور "اسلام"💠

بھارت میں شائع ھونے والی کتاب
"Muhammad.. In The Hindu Scriptures"
(جس کا اردو ترجمہ "کالکی اوتار" کے نام سے شائع کیا گیا) نے دنیا بھر ھلچل مچا دی ھے.. اس کتاب میں يہ بتایا گیا ھے کہ ھندووں کی مذھبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" یعنی آخری اوتار کا تذکرہ ھے وہ آخری رسول محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) بن عبدﷲ ھیں
📌اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ھوتا تو شايد وہ اب تک جیل میں ھوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ھوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برھمن ھندو ھیں اور الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ھیں.. وہ سنسکرت کے معروف محقق اور اسکالر ھیں.. انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور معروف محققین پنڈتوں کے سامنے پیش کیا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ھیں.. ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ھے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حواله جات مستند اور درست ھیں.. انہوں نے اپنی تحقیق کا نام "کالکی اوتار" یعنی تمام کائنات کا رھنما رکھا ھے..
📌ھندووں کی اھم مذہبی کتب میں ايک عظیم رھنما کا ذکر ھے جسے "کالکی اوتار" کا نام دیا گیا ھے.. اس سے مراد محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) ھیں جو مکہ میں پیدا ھوئے.. چنانچہ تمام ھندو جہاں کہیں بھی ھوں ان کو کسی کالکی اوتار کا مزید انتظار نہیں کرنا، بلکہ محض "اسلام قبول کرنا ھے" اور آخری رسول (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے نقش قدم پر چلنا ھے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ھیں..
📌اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ھندووں کی مقدس مذھبی کتاب "وید" سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کيئے ھیں
💠1: "وید" کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" بھگوان کا آخری اوتار ھوگا جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا.. ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش يہ کہتے ھیں کہ يہ صرف محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے معاملے میں درست ھو سکتا ھے
💠2: "وید" کی پیش گوئی کے مطابق "کالکی اوتار" ايک جزیرے میں پیدا ھوں گے اور يہ عرب علاقہ ھے جیسے جزیرة العرب کہا جاتا ھے
💠3: مقدس کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" کے والد کا نام "وشنو بھگت" اور والدہ کا نام "سومانب" ھوگا.. سنسکرت زبان میں "وشنو" ﷲ کے معنوں میں استعمال ھوتا ھے اور "بھگت" کے معنی غلام اور بندے کے ھیں چنانچہ عربی زبان میں "وشنو بھگت" کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی "عبدﷲ" ھے.. اور "سومانب" کا مطلب امن ھے جو کہ عربی زبان میں "آمنہ" ھوگا اور محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبدﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ھے
💠4: وید کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" زیتون اور کھجور استعمال کرے گا.. يہ دونوں پھل نبی صلی الله عليه وسلم کو مرغوب تھے
💠5: وہ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ھو گا.. مکہ میں محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے
💠6: "وید" کے مطابق "کالکی اوتار" اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ھو گا اور يہ بھی محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے بارے میں سچ ثابت ھوتا ھے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے جس کی مکہ میں بےحد عزت تھی
💠7: ھماری کتاب کہتی ھے کہ بھگوان "کالکی اوتار" کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا.. اس معاملے میں يہ بھی درست ھے کہ محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے جنہیں ﷲ تعالی نے غارِ حرا میں اپنے خاص فرشتے جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی
💠8: ھمارے بنیادی عقیدے کے مطابق بھگوان "کالکی اوتار" کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا جس پر سوار ھو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا.. محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کا "براق پر معراج کا سفر" کیا يہ ثابت نہیں کرتا؟
💠9: ھمیں یقین ھے کہ بھگوان "کالکی اوتار" کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا.. ھم جانتے ھیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کی فرشتوں سے مدد فرمائی
💠10: ھماری ساری مذھبی کتابوں کے مطابق "کالکی اوتار" گھڑ سواری، تیر اندازی اور تلوار زنی میں ماھر ھوگا.. پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ھے وہ اھم اور قابل غور ھے
📌وہ لکھتے ھیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ھے.. اب ٹینک، توپ اور مزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ھیں لہذا يہ عقل مندی نہیں ھے کہ ھم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح "کالکی اوتار" کا انتظار کرتے رھیں
💎حقیقت يہ ھے کہ مقدس کتابوں میں "کالکی اوتار" کے واضح اشارے محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے بارے میں ھیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل تهے
💎💎💎