حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی
لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش
کی . حضرت نے رباعی سن کر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن
سعدی کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی
رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که
خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . حضرت
امیر خسرو نے کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے
که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . آخر
ایک دن حضرت امیر خسرو نے عرض کی " سیدی ! سعدی نے بھی
نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها
هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟
پیرو مرشد نے فرمایا ،
اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .
چنانچہ امیر خسرو آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو
وظائف میں مشغول پایا . فرمایا ، " خسرو ! ادھر آؤ ، میرے پاس بیٹھو اور
دیکھو"
مرشد کی توجه هوئی اور حضرت امیر خسرو نے دیکھا که دربار رسالت
صلی الله علیه وآله وسلم آراستہ هے صحابه کرام اور هزاروں اولیاء کرام
موجود هیں . شیخ سعدی دربار میں موجود هیں اور پڑھ رهے هیں ،
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ...
اور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی ! پھر پڑھو ،
سعدی کہتے هیں لبیک یا سیدی ! اور پھر رباعی پڑهنے لگتے هیں ،
رباعی ختم هوتی هے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے
هیں ، سعدی ! پھر پڑھو اور سعدی پھر پڑھنے لگتے هیں .
یه دیکھ کر امیر خسرو نے عرض کیا ، پیرو مرشد ! لکھتا تو میں بھی خوب
هوں لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں ...
اور واقعی اس رباعی کا جواب نہیں . کہتے هیں جب حضرت سعدی نے
یه رباعی لکھی تو تین مصرعے لکھ لئے ،
بلغ العلے بکماله ...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
لیکن چوتھا مصرع موزوں نہیں هو رها تها اسی پریشانی میں سو گئے تو
خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کی زیارت کی اور دیکھا
که سرکار صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی کہتے کیوں نہیں ،
صلو علیه وآله ...
تب سے یه رباعی زبان زد عام هے اور آج بھی اس کی مقبولیت میں فرق
نہیں آیا ...
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله
Wednesday, June 22, 2016
امیر خسر اور نظام الدین اولیاء
علما کی توہین کفر ہے
عالم کی توہین......
حدیث شریف ...
(1) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے....
سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا....
جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں....
الترغیب و الترهیب ، ج-1 ، ص-74
(2) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی...
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا....
تین شخص ایسے ہیں جن کو کهلا ہوا منافق ہی ہلکا سمجهے گا....
(ا)-بوڑها مسلمان... (ب)-عالم جو مسلمانوں کو نیک بات بتائے... (ج)-مسلمان عادل بادشاہ
رواہ الطبرانی ..... الترغیب و الترهیب ، ج-1 ، ص-75
(3) حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت...
نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا...
عالم زمین پر اللہ کی حجت ہے ، پس جس نے عالم کی عیب جوئی کی وہ ہلاک ہو گیا...
کنزالعمال ، ج-10 ، ص-59
(4) حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ مروی...
حضور اکرم صلی الله عليه وسلم فرماتے ہیں....
علماء کے حق کو ہلکا نہ جانے گا ، مگر منافق....
فتاوی رضویہ ، ج-9 ، ص-140
اسی وجہ سے علما نے تصریح فرمائی ہے.... کہ
جس نے عالم کی توہین اس کے عالم ہونے کی وجہ سے کی ... تب تو صریح کفر ہے....
اگر بوجہ علم تو اس کی تعظیم و توقیر کو فرض جانتا ہے... لیکن اپنی کسی دنیوی خصومت و رنجش کی بنیاد پر تحقیر و توہین کی... تو سخت فاجر و فاسق ....
اور اگر بلا وجہ اس سے بغض و حسد و عناد و رنج رکهتا ہے .... تو وہ دل کا مریض اور باطن کا خبیث ہے... کہ اس پر اندیشئہ کفر ہے....
خلاصہ نامی کتاب میں ہے.....
جس نے کسی عالم کی بلاوجہ تحقیر کی .... اس پر کفر کا اندیشہ ہے....
منح الروض الازهر میں ہے.....
ظاہر یہ کہ اس (عالم کی توہین و تحقیر کرنے والے) پر خوف کفر ہے.....
فتاوی رضویہ ، ج-9 ، ص-140
کواشی میں ہے.....
جس نے عالم کو گالی دی اور برا بهلا کہا ... ایسا شخص دائرہ ایمان سے خارج ہے....
امام محمد اور دیگر فقہا کے نزدیک اس گستاخ و بے ادب کی بیوی پر طلاق بائن پڑجائے گی....
حضرت صدرالشہید رحمة الله عليه فتاوی بدیع الدین میں فرماتے ہیں.....
جس نے عالم کی توہین و تحقیر کی تو وہ اسلام سے خارج ہوگیا... اور اس کی عورت پر طلاق بائن پڑ جائے گی......
درة الناصحین ، ص-165
اللہم انا نعوذبک من کل امر لا تحب ..... واهدنا الی ما ترضاہ
اخلاق صحابہ واقعہ
🌸🌸🌸پشیمانی🌸🌸🌸
ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید،عبدالرحمن بن عوف،ابوذر غفاری اور حضرت بلال رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ کسی بات کے جواب میں حضرت ابوذر نے کہا کہ یہ کام ایسے کرنا چاھئے۔۔۔۔
جواب میں حضرت بلال نے کہا۔۔نہیں ایسے کرنا غلط ہے۔۔۔!
حضرت ابوذر نے کہا۔۔۔اوہ کالے انسان کے بیٹے تم میری بات کو غلط کہتے ہو۔۔۔۔!
حضرت بلال غصے کی حالت میں اٹھے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کو ابو ذر کی شکایت کی۔۔آپ یہ سن کر سخت غصے ہوگئے۔۔ادھر حضرت ابوذر بھی آپ کے دربار میں حاضر ہوگئے۔۔
آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا؛
ابوذر تم نے بلال کو ان کی ماں کی وجہ سے عار دلائی،تمہارے اندر جاہلیت کی سی خصلت ہے۔۔۔۔
حضرت ابو ذر یہ سن کر رونے لگ گئے۔۔۔کہنے لگے یارسول اللہ اللہ سے میری اس خطا پر مغفرت طلب کردیجئے۔۔۔
پھر مسجد سے روتے ہوئے نکل گئے۔۔
راستے میں انہوں نے حضرت بلال کو جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے راستے میں اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا۔۔۔کہنے لگے بلال!
اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ مٹی سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک آپ اپنا پاؤں رکھ کر اس پر سے نہ گزرجائیں۔۔
تم معزز ہو اور میں گھٹیا!!
حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر رونے لگ گئے،کہنے لگے ؛
اللہ کی قسم میں اس چہرے پر کیسے پاؤں رکھنے کا سوچ سکتا ہوں جو صرف اللہ کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے۔۔۔
پھر دونوں کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو گلے ملے اور راضی ہوگئے۔۔۔۔۔
آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے ساتھ بیسیوں دفعہ برا سلوک کرتے ہیں۔۔۔لیکن مجال ہے کہ کبھی ان سے معذرت کی ہو۔۔۔کتنے لوگ ہیں جو جان بوجھ کر دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں،ان کے دل زخمی کرتے ہیں لیکن پھر بھی نادم یا شرمندہ ہو کر اس سے معافی نہیں مانگتے۔۔۔
غلطی انسان ہی کرتے ہیں۔۔۔۔مگر غلطی پر انسان کبھی اتراتے نہیں۔۔۔غلطی پر معافی مانگنے سے آپ کی عزت کم نہیں،بلکہ ہزار گنا مزید آپ کی عزت بڑھ جاتی۔۔۔۔
آئیے آج سے عہد کریں کہ
کسی کا دل نہیں دکھائیں گے۔۔۔اگر کبھی کسی کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو بلاجھجھک اس سے معافی مانگ کر صحابہ کرام کے بہترین اسوہ کو زندہ کریں گے۔۔۔۔
معلومات قرآن کریم
معلوماتِ قرآن کریم
قرآن کریم کی پہلی منزل میں چار سورتیں، پچاسی رکوع اور چھے سو انہتر آیات ہیں۔
قرآن کریم کی دوسری منزل میں پانچ سورتیں، چھیاسی رکوع اور چھے سو پچانوے آیات ہیں۔
قرآن کریم کی تیسری منزل میں سات سورتیں، اڑسٹھ رکوع اور چھے سو پینسٹھ آیات ہیں۔
قرآن کریم کی چوتھی منزل میں نو سورتیں، چھہتر رکوع اور نو سو تین آیات ہیں۔
قرآن کریم کی پانچویں منزل میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع اور آٹھ سو چھپن آیات ہیں۔
قرآن کریم کی چھٹی منزل میں چودہ سورتیں، انہتر رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی آیات ہیں۔
قرآن کریم کی ساتویں منزل میں چونسٹھ سورتیں، ایک سو دو رکوع اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ آیات ہیں۔
قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں ، انتالیس رکوع اور پانچ سو چونسٹھ آیات ہیں۔
قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ آیات ہیں۔
قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیات(بامعنی) سورة المدثر کی آیت نمبر اکیس ہے۔
ثم نظر ( پھر تامل کیا)
سورة المدثر۔۔آیت نمبر اکیس
قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ کی آیت نمبر دو سو بیاسی ہے۔
قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورة صفٰت کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن آیات ہیں۔
قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔
قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت سورة الکوثر ہے جس کی تین آیات ہیں ، گیارہ الفاظ ہیں اور سینتیس اعراب ہیں۔
قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات ہیں،چالیس رکوع ہیں اور چھے ہزار نو سو اٹھاون الفاظ ہیں۔
سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے،
(ترمذی)
قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار "يا أيها النبي " پکارا گیا ہے۔
عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔
لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس بار اور بطور نکرہ اسی بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھے جانے والی چیز کے معنی
میں استعمال ہوا ہے۔
قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔
قرآں کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔
قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔
قرآن کریم کے دو جملے جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے
کل فی فلک۔۔۔۔۔۔سورة الانبیا، آیت تینتیس
ربک فکبر۔۔۔۔۔۔۔سورة المدثر، آیت تین
قرآن پاک کی سورة المجادلہ کی ہر سورت میں لفظ خاص" اللہ " آیا ہے۔
قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورت سے شروع ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی کا نام آیا ہے۔۔۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔
ہدہد کا نام قرآن کریم میں صرف ایک بار آیا ہے۔۔۔سورة النمل آیت بیس۔
قرآن کریم میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔۔۔۔سورة الحاقہ، آیت سترہ۔
قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت" پس تم اپنے پردوردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے؟
سورة الرحمن میں اکتیس بار
قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے
مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار
قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطاء فرمائے گئے۔۔۔۔
حوالہ
سورة النمل آیت نمبر بارہ۔۔۔۔۔سورة بنی اسرائیل آیت نمبر ایک سو ایک
پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے
سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف آیت نمبر چھے
سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم آیت نمبر سات
سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران آیت نمبر پینتالیس
سیدنا اسحاق علیہ السلام
سیدنا یعقوب علیہ السلام
سورة ھود آیت نمبر اکہتر
قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔
قرآن کریم کی سورة الفاتحہ کو سورة واجبہ بھی کہتے ہیں کیوں کہ نماز میں اس کی قرآت واجب ہے۔
قرآن کریم میں دو دریاوں کا ذکر آیا ہے کہ یہ ایک ساتھ ہونے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا ایک کا پانی کھارا ہے ایک کا پانی میٹھا ہے ان دریاوں کا ذکر سورة الرحمٰن آیت نمبر انیس بیس میں ہے یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔
سورة صمد،سورة نجات،سورة اساس، سورة معوذہ،سورة تفرید،سورة تجرید،سورة جمال اور سورة ایمان۔۔یہ سب سورة اخلاص کے نام ہیں۔
سورة الحجر آیت نمبر بہتر میں اللہ پاک نے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان (عمر) کی قسم کھائی ہے
تیری جان(عمر) کی قسم وہ تو اپنی مستیوں میں مدہوش تھے۔
قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورة الفاتحہ،سورة الانعام، سورة سبا،سورة الکہف اور سورة فاطر۔
قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز قل سے ہوتا ہے
سورة االاخلاص،سورة الکافرون ،سورة الفلق،سورة الناس اور سورة الجن
لاالہ الا محمد الرسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)
پورا کلمہ طیبہ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا ہے۔
"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " سب سے پہلے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھی تھی۔
قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔
ساگ،ککڑی ،لہسن اور پیاز
قرآن کریم کی آخری وحی کے کاتب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے
یثرب،بابل اور مکہ
قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے
کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور
قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے
لوہا،سونا،چاندی اور تانبا
قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے
کھجور،بیری اور زیتون
قرآن کریم میں پانچ پرندوں کا ذکر آیا ہے
ہدہد،ابابیل،کوا،تیتر اور بٹیر
قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا
عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔
قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورة بنی اسرائیل ہے۔
قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر کی آیت نمبر تئیس میں ہے۔
قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھے سورتیں ہیں
سورة یونس،سورة یوسف،سورة ہود، سورة ابراہیم،سورة محمد اور سورة نوح
قرآن کریم کی تین سورتیں ہیں جن کا نام ان سورتوں کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے
سورة طحہٰ، سورة یٰسین اور سورة ق
قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا
مائدہ،ہود،رعد،طٰہ،روم،ص،م حمد،طور،،ملک،دہر،اعلی، اور عصر
قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔
قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے،۔
قرآن کریم میں انسانوں میں سب سے زیادہ ذکر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا آیا ہے۔۔چھتیس بار
(کم و بیش)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کے سب سے پہلے حافظ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
سورة بنی اسرائیل کا دوسرا نام سورة اسراء بھی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترجمانِ قرآن بھی کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں لفظ احمد ایک بار آیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ
قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
قرآن کریم کا سب سے پہلے اردو ترجمہ سترہ سو چھہتر میں شاہ رفع الدین نے کیا تھا۔
قرآن کریم کی ایک سورت کا آغاز دو پھلوں کے نام سے ہوا ہے
سورة التین
والتین وزیتون
انجیر اور زیتون
قرآن کریم کی جس سورت کا اختتام دو نبیوں کے نام پر ہوتا ہے وہ سورة الاعلی ہے
ابراہیم و موسی
قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز حم سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
سورة غافر،، سورة فصلت، سورة زخرف،سورة الدخان ،سورة الجاثیہ ،سورة الاحقاف اور سورة الشوریٰ
قرآن کریم کی پانچ سورتیں ہیں جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے
سورة یونس ، سورة ہود، سورة یوسف، سورة الحجر اور سورة ابراہیم
قرآن کریم کی تین سورتیں سبح سے شروع ہوتی ہیں
سورة الحدید،سورة الحشر، سورة اور سورة الصف
قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز یسبح سے ہوتا ہے
سورة الجمعہ اور سورة التغابن
دو سورتیں ہیں جن کی ابتدا تبارک سے ہوتی ہے
سورة الفرقان اورسورة الملک
چھے سورتیں ہیں جو الم سے شروع ہوتی ہیں
سورة البقرة ،سورة آل عمران، سورة العنکبوت،سورة الروم،سورة لقمان اور سورة السجدہ
قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز طسم سے ہوتا ہے۔
سورة الشعراء اورسورة القصص
چار سورتیں ہیں جن کی ابتداء انا سے ہوتی ہے
سورة الفتح،سورة نوح،سورة القدر اور سورة الکوثر
دو سورتیں ہیں جو ویل سے شروع ہوتی ہے
سورة المطفیفین، سورة الھمزہ
تین سورتیں ہیں جن کی ابتداء یاایھالنبی سے ہوتی ہے
سورة الاحزاب ،سور ة الطلاق اور سورة التحریم
سورة الاخلاص کی تمام آیات د پر ختم ہوتی ہیں۔
سورة التوبہ کی آیت نمبر چھتیس میں ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔
سورة المجادلہ کا دوسرا نام سورة ظہار ہے۔
قرآن کریم کہ پے در پے تین سورتیں ہیں جن میں لفظ اللہ نہیں آیا
سورة الرحمن،سورة الواقعہ اور سورة القمر
سورہ محمد کا دوسرا نام سورة القتال ہے۔
قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر آئی ہیں۔
سورة البقرة۔۔ گائے
سورة الانعام۔۔۔مویشی
سورة النحل۔۔۔شہد کی مکھی
سورة النمل ۔۔۔چیونٹیاں
سورة العنکبوت۔۔۔۔مکڑی
سورة العادیات۔۔۔۔۔گھوڑے
سورة الفیل۔۔۔۔۔ہاتھی
اور
قرآن کریم میں
آدم علیہ السلام کا ذکر پچیس بار
ادریس علیہ السلام کا ذکر دو بار
نوح علیہ السلام کا ذکر تینتالیس بار
ہود علیہ السلام کا ذکر سات بار
صالح علیہ السلام کا ذکر نو بار
ابراہیم علیہ السلام کا ذکر انہتر بار
لوط علیہ السلام کا ذکر ستائیس بار
اسماعیل علیہ السلام کا ذکر بارہ بار
اسحاق علیہ السلام کا سترہ مرتبہ
یعقوب علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
یوسف علیہ السلام کا ستائیس مرتبہ
ایوب علیہ السلام کا چار بار
شعیب علیہ السلام کا گیارہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس مرتبہ
ذوالفکل علیہ السلام کا دو مرتبہ
داود علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
سلیمان علیہ السلام کا سترہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس بار
الیسع علیہ السلام کا کا د وبار
یونس علیہ السلام کا چار بار
زکریا علیہ السلام کا سات مرتبہ
یحییٰ علیہ السلام کا پانچ مرتبہ
اور
عیسی علیہ السلام کا پچیس مرتبہ
ذکر آیا ہے
اللہ پاک کمی پیشی معاف فرمائے
آمین
علما کی توہین کفر ہے
عالم کی توہین......
حدیث شریف ...
(1) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے....
سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا....
جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں....
الترغیب و الترهیب ، ج-1 ، ص-74
(2) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی...
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا....
تین شخص ایسے ہیں جن کو کهلا ہوا منافق ہی ہلکا سمجهے گا....
(ا)-بوڑها مسلمان... (ب)-عالم جو مسلمانوں کو نیک بات بتائے... (ج)-مسلمان عادل بادشاہ
رواہ الطبرانی ..... الترغیب و الترهیب ، ج-1 ، ص-75
(3) حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت...
نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا...
عالم زمین پر اللہ کی حجت ہے ، پس جس نے عالم کی عیب جوئی کی وہ ہلاک ہو گیا...
کنزالعمال ، ج-10 ، ص-59
(4) حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ مروی...
حضور اکرم صلی الله عليه وسلم فرماتے ہیں....
علماء کے حق کو ہلکا نہ جانے گا ، مگر منافق....
فتاوی رضویہ ، ج-9 ، ص-140
اسی وجہ سے علما نے تصریح فرمائی ہے.... کہ
جس نے عالم کی توہین اس کے عالم ہونے کی وجہ سے کی ... تب تو صریح کفر ہے....
اگر بوجہ علم تو اس کی تعظیم و توقیر کو فرض جانتا ہے... لیکن اپنی کسی دنیوی خصومت و رنجش کی بنیاد پر تحقیر و توہین کی... تو سخت فاجر و فاسق ....
اور اگر بلا وجہ اس سے بغض و حسد و عناد و رنج رکهتا ہے .... تو وہ دل کا مریض اور باطن کا خبیث ہے... کہ اس پر اندیشئہ کفر ہے....
خلاصہ نامی کتاب میں ہے.....
جس نے کسی عالم کی بلاوجہ تحقیر کی .... اس پر کفر کا اندیشہ ہے....
منح الروض الازهر میں ہے.....
ظاہر یہ کہ اس (عالم کی توہین و تحقیر کرنے والے) پر خوف کفر ہے.....
فتاوی رضویہ ، ج-9 ، ص-140
کواشی میں ہے.....
جس نے عالم کو گالی دی اور برا بهلا کہا ... ایسا شخص دائرہ ایمان سے خارج ہے....
امام محمد اور دیگر فقہا کے نزدیک اس گستاخ و بے ادب کی بیوی پر طلاق بائن پڑجائے گی....
حضرت صدرالشہید رحمة الله عليه فتاوی بدیع الدین میں فرماتے ہیں.....
جس نے عالم کی توہین و تحقیر کی تو وہ اسلام سے خارج ہوگیا... اور اس کی عورت پر طلاق بائن پڑ جائے گی......
درة الناصحین ، ص-165
اللہم انا نعوذبک من کل امر لا تحب ..... واهدنا الی ما ترضاہ
ہند میں مدارس اسلام کی تبایہ کا اصل سبب
ہند میں مدارس دینیہ کی تباہی کا اصل سبب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی ملک ، کوئی بھی شہر ، کوئی بھی گاؤں ، کوئی بھی گھر ، کوئی بھی تنظیم اور کوئی بھی اِدارہ اُس وقت زَوال پَزیر ہوتا ہے جب اس کی باگ ڈور نااہل اور غیر ذمہ دار لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ جائے ۔
لوگوں کی نا اَہلی کا بُرا اثر دین ودنیا دونوں پر ہوتا ہے اور یہی دونوں کی بربادی کا سبب بھی ہے چنانچہ رسولُ اللّٰہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ''لَاتَبکُوا عَلَی الدّینِ إذا وَلِیَهٗ أھلُهٗ وَابکُوا علیهِ إذا وَلِیَهٗ غیرُ أھلِهٖ''
یعنی دین پر اُس وقت مت رونا جبکہ اُس کی سر پَرستی اَہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو ، دین پر اس وقت رونا جبکہ اس کی سرپرستی نااہلوں کے ہاتھ میں ہو اس حدیث سے یہ پتاچلا کہ نا اہلوں کی نا اہلی دین کو لے ڈوبی گی
اور ایک حدیث میں ہے: إذَاوُسّدَ الأمرُإلٰی غَیْرِأھلِهٖ فَانتَظِرِ السَّاعَۃَ "
یعنی جب معاملہ نا اہلوں کے سپردکردیاجائےتو قیامت کا انتظار کرنا''
اس حدیثِ پاک میں قیامت کے انتظار کی بات یہ بتارہی ہے کہ نا اہلوں کی نااہلی دنیا کو بھی لے ڈوبے گی
شرعًا معلّمی اور استاذی کا اہل وہ ہے جس کے پاس حقیقۃً علم ہو اور وہ اپنی ہر بات طلبہ کے ذہن نشین کرنے کا ہُنَر رکھتا ہو ، عمل ہو اور وہ طلبہ کو با عمل بنانے کی تڑپ رکھتا ہو
یہ چاروں باتیں تدریسی اہلیت کا لازمہ ہیں۔ اِن کے بغیر کسی سے بھی صحیح تعلیم وتربیت اور اَفرادسازی کی امید کھلی بیوقوفی ہے.!
آج ہندوستان کے بیشتر مَدارِس میں خُصوصًا یوپی میں مُدرس کی تقرُّری اس کے علم ،صلاحیت اور استتحقاق پر نہیں ہوتی بلکہ رشتے داری ، دوستی ، دنیوی مَنفَعَت اور رِشوت وغیرہ کی بنا پر ہوتی ہے اور اپنے رشتے دار ، دوست ، قریبی اور چاپلوس کو مستحق ثابت کرنے کیلئے پوری کوشش بلکہ مُنَظَّم سازش کی جاتی ہے۔ اس بلا میں نہ یہ کہ صرف عوام بلکہ اچھے اچھے اہل علم حتی کہ خانقاہوں کے بوریہ نشین بھی گرفتار ہیں۔ اپنی اولاد ، احباب اور نا اہل طلبہ کو جگہ کا حقدار ثابت کرنے کیلئے طرح طرح کے بیجا اِقدامات کئے جاتےہیں ۔ اگر اولاد انگریزی پڑھ رہی ہو تو بھی انھیں عربی فارسی بورڈ کا فرضی امتحان دلاکر عالم وفاضل باوَر کرایاجاتا ہے اس کے لئے باقاعدہ نقل کرنے اور کرانے کا جرم عظیم بھی کیا جاتا ہے گھوس کی صورت بھی اپنائی جاتی ہے ،اس طرح سے لوگ نا اہلوں کا استحقاق ثابت کرتے ہیں اور اہل حضرات کا حق مارتے ہیں ،خود مَدارسِ اسلامیہ کے اَساتذہ دو پیسوں کی لالچ میں آکر یا یونہی دنیاوی رَواروِی میں غیر مستحِقّین کا ہیلف کرکے '' نا اہلی '' کو پَروان چڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں غیر عالم وفاضل فرضی عالم وفاضل بن کر علما کی جگہ راج کررہے ہیں
ایسی صورت میں تاریخ مَدارِسِ اسلامیہ کی تباہی کا مَرثیہ پڑھنے پر مجبور ہے اور مَدارِسِ اسلامیہ کی تباہی صرف مدارِسِ اسلامیہ کی ہی تباہی نہیں ہے بلکہ پوری قومِ مسلم کی تباہی ہے اس لئے کہ مَدارسِ اسلامیہ ہی اسلامی تعلیم کاسرچشمہ اور مسلمانوں کا دینی مرکز ہیں یہ بگڑے تو سب بگڑے ۔کسی نے سچ کہا کہ
چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
آج مَدارِس تو بہت ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے حال پر رونا آرہاہے ۔اگر سال بھر میں ایک مدرسے سے پانچ سو طلبہ پڑھ کر فارغ ہوتےہیں تو صحیح معنوں میں ان میں پانچ دس ہی کام کے لائق ہوتے ہیں اگر مدرسوں میں مُدرّسین و مُلازِمین کی تقرُّری اہلیَّت کی بِنا پر ہوتی تو انھیں موجودہ حالتِ زار سے دوچار نہ ہونا پڑتا
لیکن افسوس ! کہ آج صورتِ حال ایسی کردی گئی ہے کہ جلدی " اہل " مل نہیں پاتے ہیں اور نہ ہی اَراکین و انتظامیہ کو " اہل "کی فکر ہے
یادرکھو !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ﻣَﻦ ﻭُﻟِّﻲَ ﻣِﻦ ﺃﻣﺮِ ﺍﻟﻤُﺴﻠﻤﻴﻦَ ﺷﻴﺌًﺎ ، ﻓَﻮَﻟّٰﻰ ﺭَجُلًا ﻭَﻫُﻮَ ﻳَﺠِﺪُ ﻣَﻦ ﻫُﻮَ ﺃﺻﻠَﺢُ ﻟِﻠﻤُﺴﻠِﻤِﻴﻦَ ﻣِﻨﻪٗ ﻓَﻘَﺪ ﺧَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﻪَﻭَﺭَﺳُﻮﻟَﻪٗ
یعنی جو مسلمانوں کے کسی معاملے کا اِختیار رکھتا ہو اور وہ اُس معاملے میں اُن کیلئے زیادہ مناسب شخص کو چھوڑکر کسی اَور کو ان کا والی ونِگراں بنائے اس نے واقِعۃً اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ : ﻣَﻦ ﻗَﻠَّﺪَ ﺭَجُلًا عَمَلًا ﻋَﻠﻰٰ ﻋِﺼَﺎﺑَﺔٍ ﻭَﻫُﻮَ ﻳَﺠِﺪُ ﻓِﻲ ﺗِﻠﻚَ ﺍﻟْﻌِﺼَﺎﺑَﺔِ ﺃﺭﺿٰﻰ ﻣِﻨﻪٗ ، ﻓَﻘَﺪﺧَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﻪَ ﻭَﺧَﺎﻥَ ﺭَﺳُﻮﻟَﻪٗ ﻭَﺧَﺎﻥَ ﺍﻟﻤُﺆمِنِینَ
یعنی جو کسی شخص کو ایسی جماعت پر عامِل مُقرَّر کرے جس جماعت میں وہ اس سے بہتر شخص کو موجود پاتاہو تو بے شک اس نے اللہ کے ساتھ خیانت کی ،اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی
اس سے پتہ چلا کہ کوئی بھی عہدہ اس کے اہل کا ہی حق ہے اور اللّٰہ تعالی فرماتاہے :إنَّ اللّٰهَ يأمُرُكُم أن تُؤَدُّوا الأمَاناتِ اِلٰي أهلِها"
يعني بیشک ال لہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالے کرو
اور ارشاد فرماتا ہے " ﻳﺎﺃﻳﻬﺎ ﺍﻟﺬﻳﻦ ﺁﻣﻨﻮﺍ ﻻ ﺗﺨﻮﻧﻮﺍ ﺍﻟﻠﻪ ﻭﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻭﺗﺨﻮﻧﻮﺍ ﺃﻣﺎﻧﺎﺗﻜﻢﻭﺃﻧﺘﻢ ﺗﻌﻠﻤﻮﻥ "
یعنی اے ایمان والو! تم جان بوجھ کر اللہ ورسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور اپنے پاس رکھی گئی امانتوں میں خیانت نہ کرو
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ﻣَﺎ ﻣِﻦ ﺭﺍﻉٍ ﻳَﺴﺘَﺮﻋِﻴﻪِﺍﻟﻠّٰﻪُ ﺭِﻋَﻴَّﺔً ﻳَﻤُﻮﺕُ ﻳَﻮﻡَ ﻳَﻤُﻮﺕُ ﻭَﻫُﻮَ ﻏﺎﺵٌّ ﻟَﻬَﺎ ، ﺇلَّا ﺣَﺮَّﻡَ ﺍﻟﻠّٰﻪُ ﻋَﻠَﻴﻪِ رَائِحَۃَ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔ ـ
یعنی کسی بھی حَلقے کا ذمّہ دار اپنے حلقے سے سےدغابازی کرکے جس دن بھی مرے گا تو اس کے مَرتے ہی اللہ اس پر جنت کی خوشبو حرام کردے گا
اگر ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ کسی عہدہ پر کسی کو فائز کرسکتے ہیں تو ضروری ہےکہ اس کا اہل تلاش کر ہی اس کے سپرد کریں اس لئے کہ وہ عہدہ اسی کا حق ہے جو کہ ہمارے پاس محض امانت ہے ورنہ ہم اس اہل کے حق میں گرفتار ہونے کے ساتھ اللّٰہ ورسول اور قیامت تک جنھیں بھی نا اہل کی تقرُّری کے سبب کوئی نقصان پہنچے ان سب کے حق میں گرفتار ہوں گے
لیکن آج یہ تماشا دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اگر کسی نے اپنی طاقت استعمال کرکے کسی اہل کو اس کا حق دیدیا اور اسے اس کی جگہ پر مُتَمَکّن کردیا تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں نے اس کے اوپر بڑا احسان کیا ہے اور وہ بسا اوقات نہایت مُتَکبّرانہ انداز میں اس کا ذکر بھی کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اس حقدار پراحسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس پر احسان کیا کہ اس نے حقدار کو اس کا حق دیا لیکن آگے اس نے احسان جتا کے اپنا اجر ضائع کرلیا
اس کو اپنی اصلاح کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہ منافق اَعرابیوں کے طریقے پر گامزن ہے قرآن پاک میں ہے کہ "ﻳَﻤُﻨُّﻮﻥَ ﻋَﻠَﻴﻚَ ﺃﻥ ﺃﺳﻠَﻤُﻮﺍ قُل لَا ﺗَﻤُﻨُّﻮﺍ ﻋَﻠَﻲَّ ﺇﺳﻼﻣَﻜُﻢ ﺑَﻞِ ﺍﻟﻠّٰﻪُ ﻳَﻤُﻦُّ ﻋَﻠَﻴﻜُﻢ ﺃﻥ ﻫَﺪَﺍﻛُﻢ ﻟِﻺﻳﻤﺎﻥِ ﺇﻥ ﻛُﻨﺘُﻢ ﺻﺎﺩِﻗِﻴﻦَ"
یعنی اے میرے محبوب!منافق اَعرابی تم پر اپنے ایمان لانے کا احسان رکھتے ہیں۔تم فرمادو کہ تم اپنے ایمان لانے کا احسان مجھ پر مت رکھو بلکہ اگر تم سچے ہو تو اللہ تم پر احسان رکھتاہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی _
کسی حقدار کو اس کا حق دیکر احسان جتانا انتہائی گھٹیا اور پَست فطرت لوگوں کا کام ہے اور حقدار کو اس کا حق نہ دینا اس پر ظلم ، اللہ ورسول کے ساتھ خیانت اور مسلمانوں کے ساتھ دغابازی ہے
لاکھوں لاکھ کی لاگت سے جلسے جلوس کرنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ ہم مدرسین کی تقرُّری سے پہلے پچیس پچاس ہزارخرچ کرکے کچھ مخلص ،باصلاحیت اور بیجا رِعایت سے بچنے والے علماءِ کرام کو بلواکر ان کی اہلیت کی جانچ کرلیں پھر ان کی تقرُّری کریں نا اہلوں کی تقرری کے بعد تعلیمی معیار بنانے کیلئے کتنی بھی کتابیں بدلیں کتنے بھی نئے نصاب مقرر کریں اور کتابوں کی کتنی بھی مقدار یں متعین کریں۔لیکن کامیابی کی امید نہ رکھیں اِس لئے کہ اِن تدبیروں سے اس خامی کی تَلافی ممکن نہیں۔
اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بحرمۃ النبی الامین صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم
🖋ازقلم :محمد مشاھد رضا عبیدالقادری ضلع گونڈہ یو۔ پی
💌💌💌💌💌💌💌💌💌
مرسل ⚠
❣اسیر بارگاہ رضا❣
📧عبدالامین برکاتی قادری
🇮🇳ویراول گجرات ہند